نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اس لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانا چاہیے جس سے ٹرانسپورٹ بند ہو: وزیراعظم

اس لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانا چاہیے جس سے ٹرانسپورٹ

 بند ہو: وزیراعظم



وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں لاک ڈاؤن کے دوران ٹرانسپورٹ والی

 بندش کی طرف نہیں جانا چاہیے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کی زیر صدات قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈرز کی ویڈیو کانفرنس ہوئی جس سے وزیراعظم عمران خان نے بھی خطاب کیا۔
ویڈیو کانفرنس میں پیپلزپارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو اور شیری رحمان نے شرکت کی جب کہ ن لیگ کی جانب سے شہبازشریف، مشاہداللہ خان اور خواجہ آصف شریک ہوئے۔

پارلیمانی لیڈرز سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا کو چین میں رکھنے کا مشکل فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے چین سے ابھی تک ایک بھی کورونا وائرس کا کیس پاکستان میں نہیں آیا۔

انہوں نے بتایا کہ کل تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 900 مریض تھے جس میں سے صرف 153 کورونا وائرس کے مقامی مریض ہیں جب کہ اب تک پاکستان آنے والے 9 لاکھ سے زائد افراد کی ائیر پورٹ پر اسکریننگ کی جا چکی ہے۔

عمران خا ن نے کہا کہ پاکستان جب یہ جنگ جیتے گا تو اس میں تمام پاکستانی شامل ہوں گے، تمام صوبے اور سیاسی فورس ہوں گی، اپوزیشن کا ان پٹ لینے کے لیے تیار ہیں، ایک قوم یہ جنگ جیت سکتی ہے کوئی حکومت اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کورونا کے کیسز سانے آئے تو فوری طور پر یونیورسٹیز، کالجز ،کرکٹ میچز اور عوامی اجتماعات کو بند کردیا گیا، جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے تھے وہ جگہ ہم نے بند کردی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کے معاملے پر کنفیوژن ہے، ہمیں ٹرانسپورٹ بند کرنے والا لاک ڈاؤن ابھی نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ٹرانسپورٹ کی بندش سے ملک میں مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ٹرانسپورٹ بند ہونے سے کھانے پینے کی اشیا کی سپلائی بھی متاثرہوگی۔

عمران خان کا کہنا تھا اگرخدانخواستہ ملک میں کرفیو لگانا پڑے تو اس کی تیاری ہونی چاہیے، لاک ڈاؤن کی آخری اسٹیج کرفیو ہے، لاک ڈاؤن سے ساری انڈسٹری بند ہوگئی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خوف میں لیے گئے فیصلوں کا درست جائزہ نہیں لیا جاتا، کرفیو کی صورت میں ہمیں لوگوں کوگھروں میں کھانا پہچانا پڑے گا، ہمیں مشاورت کرنی چاہیے اور چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے معاملے پر سندھ بہت آگے چلا گیا ہے، لاک ڈاؤن سے ہماری تعمیراتی صنعت متاثر ہو گی، میڈیا کی طرف سے پریشر پڑا جس پر کے پی، بلوچستان اورپنجاب نے بھی لاک ڈاؤن شروع کر دیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کورونا وائرس کے خلاف جنگ پوری قوم کی مدد سے ہی جیتی جاسکتی ہے، کورونا کے خلاف جنگ میں غریب طبقے کا دھیان رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے، کل نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں وفاق اپنا مؤقف دے گا۔
Credits:
GeoNews


اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بلوچستان میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

                     پنجاب میں کورونا سے پہلی ہلاکت، ملک بھر میں لاک ڈاؤن     آج ملک میں مجموعی طور پر 32 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 916 تک جاپہنچی ہے نئے کیسز کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 916 تک جاپہنچی ہے جبکہ مہلک وائرس سے اب تک 10 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جن میں سے گلگت بلتستان اور سندھ میں 4، 4 اور 2 کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں آج کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں  انتقال کرجانے والے افراد کی تعداد 7 تک جاپہنچی ہے۔ آج ملک میں  مجموعی طور پر  32 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے پنجاب میں 19 اور سندھ میں 13 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی اس سے قبل خیبرپختونخوا میں 3، بلوچستان، گلگت بلتستان اور سندھ میں ایک ایک مریض جاں بحق ہوا ہے۔  ملک بھر میں لاک ڈاؤن پا کستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد ملک بھر میں فوج تعینا...

پنجاب بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا نیا شیڈول جاری

پنجاب بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کا نیا شیڈول جاری   پنجاب بورڈز کمیٹی آف چیئرمین کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق میٹرک اور انٹرمیڈیٹ دونوں  کے پریکٹیکلز نہیں ہوں گ ے بلکہ صرف تھیوری پرچے لئے جائیں گے۔ پرچو ں کا سینٹرلائز ڈ مارکنگ نظام بھی تبدیل کردیا گیا ہے اور اب الگ مارکنگ ہوگی۔ صوبے بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی گئی ہے کہ شیڈول کے تحت امتحانات کی تیاریاں شروع کردیں تاہم 4 جون تک کورونا  وائرس ختم نہ ہوا تو یہ شیڈول منسوخ تصور ہوگا ۔ مراسلے کے مطابق دسویں کے سالانہ امتحانات مکمل ہوچکے ہیں اس لئے ان کے نتائج کااعلان جولائی کے تیسرے ہفتہ ہوگا۔ نویں کلاس تھیوری امتحانات 18 جو ن سے 27 جون تک ہوں گے اور نتائج کا اعلان ستمبر کے پہلے ہفتے میں ہوگا۔ انٹرمیڈیٹ سیکنڈ ائیر کے امتحانات 29 جون سے 27 جولائی کے درمیان ہوں گے اور نتائج کا اعلان ستمبرکے دوسرے ہفتے ہوگا۔ اسی طرح فرسٹ ائیر کے امتحانات 10 جولائی سے 20 جولائی ہوں گے،نتائج کا اعلان اکتوبر کے پہلے ہفتے ہوگا ۔