نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پاکستانی طلبہ نے کوروناوائرس کی 20 سیکنڈ میں تشخیص کا آلہ بنالیا

پاکستانی طلبہ نے کوروناوائرس کی 20 سیکنڈ میں تشخیص کا آلہ بنالیا

دوپاکستانی طلبہ نے کوروناوائرس کی جلد تشخیص کے لیے سسٹم ڈیٹیکٹر بنایاہےجو پھیپھڑوں کے کمپیوٹڈ ٹومو گرافی (سی ٹی اسکین)  سے وائرس کو شناخت کرلےگا۔


غلام اسحٰق خان انسٹیٹیوٹ صوابی میں زیر تعلیم مکینکل انجینئر محمد علیم اور ان کے ساتھی کمپیوٹر انجینئرنگ کے طالب علم راہول راج نے یہ آلہ بنایا ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہاہے اس لیے انہوں نے  وائرس کی تشخیص کے لیے درکار کِٹس کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جینس ٹول (مصبوعی ذہانت) سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بنائےگئے ماڈل کے ذریعے پھیپھڑوں کے سی ٹی اسکین کرکے کوروناوائرس کی موجودگی کی 92 فیصد تک درست تصدیق ہوسکتی ہے اور یہ عمل صرف 10سے20 سیکنڈز میں مکمل ہوجائےگا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں عام طور پر لیبارٹری سےکورونا وائرس کی تشخیص میں کم از کم 24 گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 7 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ ملک بھر میں کیسز کی تعداد 958 ہوگئی ہے۔
دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 3لاکھ 95 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 17 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔
160 سے زائد ممالک میں پھیلی وبا کی وجہ سے پوری دنیا کو ماسک، کورونا کی تشخیص سے متلعق میڈیکل آلات، کِٹس اور وینٹی لیٹرز کی کمی کا سامنا ہے جب کی مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔
Credits:
Geo News

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ملک میں کورونا سے مزید 8 اموات، ہلاکتیں 197 ہوگئیں، مجموعی کیسز 9505 تک جا پہنچے

پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 8 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ملک میں مہلک وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 197 ہو گئی ہے جب کہ مزید نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مصدقہ مریضوں کی تعداد 9505 تک پہنچ گئی۔ 197 ہلاکتوں میں سے اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں74 افراد کا انتقال اس وائرس کی وجہ سے ہو چکا ہے۔ سندھ میں 66، پنجاب میں 45، بلوچستان میں 6 جب کہ گلگت بلتستان اوراسلام آباد میں تین، تین افراد اس مہلک وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔ کُل ٹیسٹ: 111,806 صحتیاب مریض: 2066  (کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق) آج کے کیسز کی صورتحال آج بروز منگل ملک بھر سے کورونا کے مزید 375کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 8 ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں جن میں سے سندھ میں 286 کیسز اور 5 ہلاکتیں، پنجاب 84 کیسز 3 ہلاکتیں، اسلام آباد 4 کیسز اور آزاد کشمیر میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ سندھ سندھ میں منگل کو مزید 286 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور 5 افراد وائرس سے انتقال کرگئے۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 66 اور متاثر...

پاکستان میں جولائی تک کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ ہوسکتی ہے: ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر  ٹیڈروس ادھانوم گھیبریوسس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں مزید مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جولائی کے وسط تک کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا ٹوئٹس میں کہنا تھا کہ کورونا وائرس پاکستان کے 115 اضلاع تک پھیل چکا ہے اور صوبہ پنجاب اور سندھ میں متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس سے نظام صحت پرنمایاں دباؤ آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کو سماجی و اقتصادی اور غذائی کمی سے پیدا ہونے والے اثرات پر توجہ دینی چاہیے جبکہ ایسے حالات میں پاکستان کو بروقت مزید مالی معاونت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مزید مؤثراقدامات نہ کیے گئے تو جولائی کے وسط تک کورونا مریضوں کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے لہٰذا پاکستان، اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کو متحرک اور جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مہلک وبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے اپ...

کیا کورونا وائرس نوٹوں سے بھی لگ سکتا ہے؟

مہلک کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ایسا خوف پھیلایا ہوا ہے کہ لوگوں میں کوئی بھی چیز چھونے سے قبل یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس پر وائرس موجود نہ ہو جو انسانی جسم میں منتقلی کا سبب بنے۔ اس صورتحال میں لوگ اب  تذبذب کا شکار نظر آرہے ہیں کہ کیا کورونا وائرس کے جراثیم پیسوں سے بھی پھیل سکتے ہیں؟ کیونکہ اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے رقوم کی منتقلی کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس سے نوٹوں کے ذریعے وائرس پھیلنے سے متعلق بھی قیاس آرائیاں ہیں۔ اس ضمن میں عالمی ادارہ صحت نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہےکہ  فی الحال ایسے کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے ہیں جس سے معلوم ہوا ہو کہ کورونا وائرس کے جراثیم نوٹوں اور سکوں کو چھونے سے بھی پھیل سکتے ہیں تاہم اب تک صرف یہی بات واضح ہے کہ متاثرہ شخص کے سانس لینے سے ہوا میں معلق ذرات سے دوسرا انسان وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ View this post on Instagram Q: Can #COVID19 be spread through coins and banknotes? #coronavirus #KnowTheFacts A post shared by World Health Organization (@who) on Apr 17,...